Right Law Associates logoRIGHT LAWA S S O C I A T E S

قانونی رہنمائی اور مفت نمونہ

دوسری شادی کا اجازت نامہ — دفعہ 6، یونین کونسل اور درخواست کا نمونہ

مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 6 کے تحت دوسری شادی کے اجازت نامے، ثالثی کونسل کی کارروائی، اسلامی اصولِ انصاف اور درخواست کے نمونے کی مکمل رہنمائی۔

English Version

مفت فارم دیکھیںقانونی حوالے

حلف نامہ برائے درخواست اجازت دوسری شادی — معاون بیان

حلف نامہ درخواست گزار کا اپنا بیانِ حلف ہوگا جس میں موجودہ ازدواجی حیثیت، دوسری شادی کی حقیقتاً موجود وجوہات اور پہلی بیوی کی رضامندی کی درست کیفیت درج ہوگی۔ حلف نامہ کسی یونین کونسل کا اجازت نامہ یا سرٹیفکیٹ نہیں۔ Rule 15 تحریری اور دستخط شدہ درخواست کا تقاضا کرتا ہے مگر ہر یونین کونسل میں الگ حلف نامہ لازمی قرار نہیں دیتا۔ مقامی دفتر اپنی ضروریات کے مطابق اسے طلب کرسکتا ہے۔

حلف کے لیے صرف صحیح واقعات، تاریخیں اور موجودہ ثبوت لکھیں۔ حلف کمشنر یا مجاز افسر کے سامنے حلف صرف اصل درخواست گزار دے۔ بے بنیاد الزام یا غیر تصدیق شدہ تشخیص نہ لکھیں۔

اجازت نامہ دوسری شادی کے حلف نامے میں کن وجوہات کا ذکر کیا جاسکتا ہے؟

Rule 14 میں بانجھ پن، جسمانی بیماری یا ازدواجی تعلق کے لیے عدم استطاعت، عدالتی ڈگری برائے بحالی حقوق زوجیت کی دانستہ خلاف ورزی اور شدید ذہنی بیماری جیسی مثالیں شامل ہیں۔ کئی سال اولاد نہ ہونا، طبی مشکلات، طویل علیحدہ رہائش یا صلح کی کوششوں کا نتیجہ جیسی حقیقی صورتحال بھی متعلقہ بیان میں واضح کی جاسکتی ہے۔

اولاد نہ ہونے سے خود بخود بیوی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا، اور میکے میں رہائش خود بخود قصور نہیں ہے۔ ذہنی بیماری کی بات صرف قابل اعتماد طبی ثبوت کی روشنی میں کی جائے۔ ہر درخواست کا منصفانہ اور ضروری ہونا ثالثی کونسل طے کرتی ہے۔

دوسری شادی کے اجازت نامے کی قانونی حیثیت

پاکستان میں موجودہ شادی قائم رہنے کے دوران مزید نکاح کرنے کے لیے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 6 کے تحت ثالثی کونسل سے پہلے تحریری اجازت ضروری ہے۔ یہ قانون عام بول چال میں دوسری شادی کا اجازت نامہ یا Permission for Bigamy بھی کہلاتا ہے۔ ویب سائٹ پر رکھا گیا خالی نمونہ کسی سرکاری فیصلے کے برابر نہیں۔

اجازت نامے کی نقل یا فارم بھرنے سے حقیقی منظوری نہیں ملتی۔ درخواست گزار کو متعلقہ یونین کونسل میں قانونی طریقے سے درخواست دینا ہوگی، متعلقہ فریقوں کے حقوق کا لحاظ رکھنا ہوگا اور کونسل کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا۔

دفعہ 6 مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961

دفعہ 6 میں موجودہ شادی کے دوران مزید شادی کرنے سے پہلے ثالثی کونسل کی تحریری منظوری کا تقاضا درج ہے۔ قانون کہتا ہے کہ درخواست چیئرمین کے پاس مقررہ طریقے سے پیش کی جائے، اس میں دوسری شادی کی وجوہات اور پہلی بیوی یا بیویوں کی رضامندی کی حالت واضح کی جائے۔

درخواست میں حقیقت کے خلاف بات لکھنا یا فرضی رضامندی ظاہر کرنا مناسب نہیں۔ یونین کونسل کی کارروائی اور سرکاری ریکارڈ اصل حیثیت رکھتے ہیں۔

اجازت نامہ دوسری شادی کون جاری کرتا ہے؟

درخواست چیئرمین کو دی جاتی ہے لیکن دوسری شادی کی منظوری کا قانونی معاملہ ثالثی کونسل طے کرتی ہے۔ دفعہ 6 کے مطابق موجودہ بیوی یا بیویوں اور درخواست گزار کو نمائندے نامزد کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ کونسل یہ دیکھتی ہے کہ درخواست منصفانہ اور ضروری ہے یا نہیں۔

اس لیے صرف کسی مقامی شخص یا نکاح خواں کے دستخط سے اجازت نامہ تیار نہیں کیا جاسکتا۔ فیصلہ کی وجوہات درج ہونا قانونی عمل کا اہم حصہ ہے۔

کس یونین کونسل میں درخواست جمع ہوگی؟

1961 کے قواعد کے قاعدہ 3 کے تحت عمومی طور پر موجودہ بیوی کی رہائش والی یونین کونسل متعلقہ ہوتی ہے۔ ایک سے زیادہ موجودہ بیویاں ہونے کی صورت میں قاعدہ آخری نکاح والی بیوی کا ذکر کرتا ہے۔ درخواست دینے سے پہلے صوبے، علاقے اور موجودہ قواعد کی تصدیق ضروری ہے۔

دوسرے ضلع میں ملازمت یا رہائش ہونے پر صرف سہولت کی خاطر کسی غیر متعلقہ یونین کونسل میں درخواست دینا قانونی اعتراض پیدا کرسکتا ہے۔

اجازت نامہ دوسری شادی کی درخواست کیسے لکھیں؟

چیئرمین ثالثی کونسل کے نام درخواست میں اپنا نام، ولدیت، شناختی کارڈ نمبر، مکمل پتہ، پہلی شادی کی تفصیل، دوسری شادی کے حقیقی اسباب اور پہلی بیوی کی رضامندی یا عدم رضامندی درج کریں۔ درخواست پر دستخط اور تاریخ لگائیں۔

قاعدہ 15 میں تحریری اور دستخط شدہ درخواست کا ذکر ہے۔ ہاتھ سے لکھی درخواست بھی اصولی طور پر تحریری درخواست ہوتی ہے، تاہم متعلقہ دفتر اگر مخصوص طریقہ یا اضافی دستاویز مانگے تو اس کی تصدیق کریں۔

اجازت کے لیے کون سی دستاویزات ساتھ رکھیں؟

شناختی کارڈ، موجودہ نکاح نامے کی تفصیل، زوجہ کا مکمل پتہ، درخواست کے وجوہات اور رضامندی سے متعلق اصل ریکارڈ مفید ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی فریق بیرون ملک مقیم ہے تو نوٹس، نمائندگی اور پتہ سے متعلق صورتحال پہلے واضح کریں۔

ہر یونین کونسل کی فیس اور اضافی دستاویزات کا طریقہ یکساں ہونے کا دعویٰ درست نہیں۔ متعلقہ دفتر سے موجودہ ہدایات معلوم کرنا چاہیے۔

پہلی بیوی کی رضامندی اور ثالثی کونسل کی اجازت

پہلی بیوی کی رضامندی ایک اہم متعلقہ حقیقت ہے، مگر وہ بذات خود ثالثی کونسل کی سابقہ تحریری اجازت نہیں۔ دفعہ 6 درخواست گزار سے یہ بتانے کا تقاضا کرتی ہے کہ رضامندی ملی ہے یا نہیں۔ صوبائی ترامیم اور واقعات کے مطابق قانونی مشورہ ضروری ہوسکتا ہے۔

رضامندی حاصل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا، غلط بیان دینا یا کسی اور کی جانب سے دستخط کرنا سنگین مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

ثالثی کونسل فیصلہ کیسے کرتی ہے؟

کونسل درخواست، متعلقہ فریقوں کی نمائندگی اور دوسرے حالات دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے کہ دوسری شادی ضروری اور منصفانہ ہے یا نہیں۔ قاعدہ 14 میں کچھ مثالیں ہیں مگر کوئی ایک مثال خود بخود اجازت حاصل کرنے کا حق نہیں بناتی۔

درخواست میں کسی کے متعلق بے بنیاد طبی یا ذاتی الزام لگانے کے بجائے قابل تصدیق حقائق اور موجودہ ذمہ داریوں کی صورت واضح کرنی چاہیے۔

اسلامی تعلیمات: سورۃ النساء آیت 3

قرآن مجید، سورۃ النساء کی آیت 3 میں عدل و انصاف کی شرط کے ساتھ ایک سے زیادہ نکاح کا ذکر موجود ہے، اور اگر انصاف نہ ہوسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی شادی کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ اسلام کے اس موضوع میں انصاف، حقوق اور ذمہ داریوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

پاکستان کے قانون میں درکار یونین کونسل کی تحریری اجازت، اسلامی اصولوں کی عمومی بحث سے الگ ایک لازم قانونی مرحلہ ہے۔

سورۃ النساء آیت 129 اور حدیثِ نبوی

سورۃ النساء آیت 129 میں انسان کی جذباتی برابری کی محدود استطاعت بیان ہونے کے ساتھ ایک بیوی کی طرف مکمل جھکاؤ کرکے دوسری کو معلق چھوڑنے سے منع کیا گیا ہے۔ سنن ابی داؤد حدیث 2133 میں دو بیویوں کے درمیان غیرمنصفانہ میلان سے متعلق تنبیہ موجود ہے۔

اسلامی تعلیمات کا مقصود بے انصافی سے بچنا اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہے۔ کسی مخصوص فقہی مسئلے میں مستند دینی رہنمائی بھی لی جاسکتی ہے۔

بغیر اجازت دوسری شادی کرنے کے قانونی نتائج

دفعہ 6(5) کے تحت اجازت کے بغیر دوسری شادی ہونے پر موجودہ بیوی یا بیویوں کے واجب الادا فوری و مؤخر حق مہر کی ادائیگی کا معاملہ پیدا ہوتا ہے اور شکایت پر سزا کی شق بھی موجود ہے۔ نکاح کی شرعی یا قانونی حیثیت، رجسٹریشن اور سزا الگ الگ سوال ہیں۔

پنجاب کی 2015 کی ترمیم میں ایک سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کا ذکر ہے۔ سندھ یا دیگر علاقوں میں سزا کا تعین متعلقہ صوبے کے نافذ قانون سے کیا جائے؛ پنجاب کی رقم سب جگہ خودکار طور پر نافذ نہیں۔

اجازت نامے اور درخواست کے فارم میں کیا فرق ہے؟

درخواست وہ کاغذ ہے جو درخواست گزار تیار کرکے چیئرمین کو دیتا ہے، جبکہ اجازت نامہ سرکاری ثالثی کونسل کے فیصلے کی تحریری دستاویز ہے۔ درخواست ہاتھ سے لکھی جاسکتی ہے، مگر اختیار کے بغیر کوئی شخص اصل اجازت نامہ جاری نہیں کرسکتا۔

سادہ نمونے میں یونین کونسل نمبر، شہر، نام، درخواست نمبر اور تاریخ کے لیے خالی جگہیں رکھی گئی ہیں۔ مہر یا کسی حقیقی افسر کے دستخط شامل نہیں۔

دوسری شادی کا اجازت نامہ: سماعت اور فیصلہ

قانونی کارروائی میں متعلقہ نمائندوں کی نامزدگی، نوٹس اور شواہد پر غور ہوسکتا ہے۔ کونسل کا فیصلہ ریکارڈ میں ہونا چاہیے اور اگر اجازت ملے تو اس کی حقیقی مصدقہ دستاویز متعلقہ دفتر سے حاصل کریں۔

انکار کی صورت میں محض کسی نمونے کو بدل کر منظوری بنانا جائز نہیں۔ متعلقہ قانون کے تحت نظرثانی کے طریقے کے لیے وکیل سے مشورہ کریں۔

پہلی بیوی، بچوں اور خاندان کے حقوق

دوسری شادی کا معاملہ صرف نئے نکاح کا سوال نہیں۔ موجودہ زوجہ کے حق مہر، نان نفقہ، عزت و احترام اور بچوں کے حقوق پر بھی غور کرنا چاہیے۔ درخواست میں آئندہ ذمہ داریوں کی درست اور حقیقت پسندانہ تفصیل اہم ہوسکتی ہے۔

کسی بھی فریق کی عزت مجروح کرنے کے بجائے حقائق، اصل ریکارڈ اور قانونی طریقے پر توجہ دیں۔

بیرون ملک پاکستانی درخواست کیسے دیں؟

اگر شوہر یا موجودہ بیوی بیرون ملک ہو تو متعلقہ یونین کونسل، رہائش، نوٹس کی تعمیل، نمائندگی اور کاغذات کی تصدیق کے سوالات پہلے طے کریں۔ محض بیرون ملک رہنے کی وجہ سے دفعہ 6 کی شرط خود بخود ختم نہیں ہوتی۔

غیر معمولی صورتحال میں خاندان کے قانونی معاملات دیکھنے والے وکیل سے مخصوص رہنمائی حاصل کرنا بہتر رہتا ہے۔

مفت نمونہ اور درخواست برائے اجازت دوسری شادی

ویب سائٹ پر دیا جانے والا سادہ تعلیمی نمونہ یونین کونسل کی عمومی دستاویز کا انداز سمجھانے کے لیے ہے۔ اس میں کسی سرکاری دفتر کی اصلی مہر، نام یا دستخط نہیں۔ لفظ SAMPLE / نمونہ واضح لکھا گیا ہے۔

نچلے حصے میں دو الگ پرنٹ ایبل دستاویزات ہیں: ایک اجازت نامے کا نمونہ اور دوسری چیئرمین ثالثی کونسل کے نام درخواست۔ انہیں کھول کر براؤزر سے Save as PDF کیا جاسکتا ہے۔

درخواست، اجازت نامہ اور تائیدی حلف نامہ — مفت نمونے

دو الگ سادہ دستاویزات دستیاب ہیں، ایک درخواست اور ایک اجازت نامے کا نمونہ۔ نمبر، نام، شہر، تاریخ اور فیصلے کے خانے خالی ہیں، اور سرکاری مہر یا افسر کے دستخط موجود نہیں۔ براؤزر میں فارم کھول کر Print / Save as PDF منتخب کریں۔

اجازت نامہ — نمونہدرخواست کا نمونہحلف نامہ — تائیدی نمونہEnglish Supporting Affidavit

ہر فارم پر SAMPLE — نمونہ لکھا ہے؛ اسے سرکاری دستاویز کے طور پر پیش نہ کریں۔

عام سوالات اور جوابات

کیا پہلی بیوی کی رضامندی ہی کافی ہوتی ہے؟

نہیں، متعلقہ ثالثی کونسل کی پہلے سے تحریری اجازت ضروری ہے۔ رضامندی اور قانونی منظوری ایک نہیں۔

اجازت نامہ کون جاری کرتا ہے؟

متعلقہ ثالثی کونسل کی کارروائی اور فیصلے کے بعد مجاز دفتر تحریری اجازت دیتا ہے۔

کیا درخواست ہاتھ سے لکھی جاسکتی ہے؟

قاعدہ 15 کے مطابق تحریری اور دستخط شدہ درخواست درکار ہے؛ دفتر کی موجودہ ہدایات بھی دیکھیں۔

درخواست کس یونین کونسل میں دی جاتی ہے؟

عمومی طور پر موجودہ زوجہ کی رہائش والی متعلقہ یونین کونسل، مگر موجودہ علاقائی قانون کی تصدیق کریں۔

کیا نادرا اجازت دیتا ہے؟

نہیں، یہ نادرا کا سرٹیفکیٹ نہیں بلکہ ثالثی کونسل سے متعلق قانونی عمل ہے۔

کیا پہلی بیوی کی رضامندی نہ ہو تو درخواست رد ہوجاتی ہے؟

درخواست میں اصل صورتحال بتانا لازم ہے؛ کونسل قانون اور حقیقی حالات کو دیکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔

دفعہ 6 کیوں اہم ہے؟

یہ پہلی شادی برقرار ہونے کے دوران مزید نکاح کے لیے سابقہ تحریری اجازت کا قانونی تقاضا بیان کرتی ہے۔

کیا کوئی شخص اپنے گھر میں اجازت نامہ بنا سکتا ہے؟

صرف تعلیمی نمونہ بناسکتا ہے، سرکاری اجازت ہرگز نہیں۔

اسلام میں عدل کی شرط کس آیت میں ہے؟

سورۃ النساء آیت 3 میں انصاف اور ایک شادی کی ہدایت کا ذکر ہے۔

بیویوں کے درمیان ناانصافی پر کون سی حدیث ہے؟

سنن ابی داؤد حدیث 2133 میں غیرمنصفانہ میلان کے متعلق تنبیہ ہے۔

پنجاب میں بغیر اجازت دوسری شادی کی سزا کیا ہے؟

2015 کی صوبائی ترمیم کے مطابق ایک سال تک قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی شق ہے۔

کیا یہی سزا سندھ میں بھی ہے؟

ضروری نہیں؛ متعلقہ صوبے کا تازہ قانونی متن دیکھا جائے۔

کیا اجازت کے بغیر نکاح خود بخود باطل ہوجاتا ہے؟

نکاح کی حیثیت اور دفعہ 6 کی خلاف ورزی کے نتائج الگ قانونی مسائل ہیں؛ مخصوص مشورہ لیں۔

کیا واجب الادا حق مہر فوری ادا کرنا پڑ سکتا ہے؟

دفعہ 6(5)(a) میں بلا اجازت دوسری شادی پر واجب الادا فوری اور مؤخر حق مہر کی ادائیگی درج ہے۔

کیا اجازت کے فارم پر مہر ہونا ضروری ہے؟

حقیقی سرکاری اجازت کی تصدیق متعلقہ دفتر کے ریکارڈ سے کریں؛ ویب سائٹ کے نمونے میں مہر نہیں ہوگی۔

بیرون ملک مقیم درخواست گزار کیا کرے؟

بیوی کی رہائش، یونین کونسل کے اختیار، نوٹس اور نمائندگی کی تفصیل پہلے تصدیق کریں۔

English Version →